ترکیہ خبر

ترکی کی یورپی انسانی حقوق نظام کی سیاست زدگی پر شدید تشویش، قبرص تنازع دوبارہ زیرِ بحث

ترکی کی یورپی انسانی حقوق نظام کی سیاست زدگی پر شدید تشویش، قبرص تنازع دوبارہ زیرِ بحث

استنبول( ترکیہ خبر) استنبول میں ترکی نے یورپی انسانی حقوق کے نظام کے بارے میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا جب یورپی کونسل کے اجلاس میں قبرص میں بے گھر افراد کے جائیداد کے حقوق سے متعلق معاملہ ایک بار پھر زیرِ بحث آیا۔ترک وزارتِ خارجہ کے ترجمان اونجو کیچلی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ترکی یورپی انسانی حقوق کے کنونشن کے نظام کے سیاسی بنیادوں پر متاثر ہونے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپی عدالتِ انسانی حقوق کے 2001 کے فیصلے میں شامل “قبرصی یونانی فریق” سے متعلق جائیداد کے حقوق والا حصہ ایک بار پھر یورپی کونسل کی وزرائے کمیٹی کے 1563ویں اجلاس میں زیرِ غور آیا، جو 9 سے 11 جون کے دوران اسٹریسبرگ میں منعقد ہوا۔ترجمان کے مطابق یہ حصہ اب تک بند نہیں کیا جا سکا، حالانکہ یورپی کونسل کی سیکرٹریٹ نے 2022 سے اس کی نگرانی ختم کرنے کی سفارش کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں سیکرٹریٹ کو ایک غیر معمولی طریقہ کار کے تحت یہ ذمہ داری بھی دی گئی کہ وہ 2014 کے عدالتی فیصلے میں جائیداد سے متعلق شقوں کی تشریح پر ایک مسودہ تیار کرے، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں فیصلوں کی مختلف تشریحات پائی جاتی ہیں۔ترک ترجمان نے ان اقدامات کو کمیٹی آف منسٹرز کی تاریخ میں غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب قبرصی یونانی فریق کی جانب سے انسانی حقوق کے نظام کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ قبرصی یونانی فریق نے کنونشن کے نظام کو مؤثر طور پر چلنے سے روکنے کی کوشش کی ہے اور قبرص مسئلے کے حل میں عدم سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ترکی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے ساتھ قریبی مشاورت کے ساتھ مسلسل نظر رکھے گا۔اس معاملے میں یورپی کونسل اور یورپی عدالت برائے انسانی حقوق سے متعلق فیصلے بھی دوبارہ بحث کا حصہ بنے ہیں، جبکہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ نے بھی اس صورتحال میں اہم حیثیت اختیار کر لی ہے۔