استنبول ( ترکیہ خبر) ترکیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی اسرائیلی بستیوں کی منظوری کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے اور اسے دو ریاستی حل کی کوششوں کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ترک وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت مسلسل ایسے اقدامات کر رہی ہے جو دو ریاستی حل کی بنیادوں کو کمزور کرتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ علاقوں میں زمینوں پر قبضے اور آبادکاروں کے تشدد کی حوصلہ افزائی سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ترکیہ نے اسرائیل کی جانب سے نئی بستیوں کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر مؤثر کردار ادا کرے۔بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی قبضے اور توسیع کی پالیسیوں کو خطے میں کشیدگی بڑھانے اور زمینی حقائق کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ترکیہ نے زور دیا کہ عالمی برادری فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کی اعلیٰ منصوبہ بندی کونسل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مختلف غیر قانونی بستیوں میں 2 ہزار سے زائد نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی منظوری دی۔منصوبے کے تحت بیت لحم کے جنوب میں واقع گیوات بستی میں ایک ہزار سے زائد یونٹس، نابلس کے جنوب میں ہار براخا میں 900 سے زائد یونٹس، جبکہ ہیبرون کی زمین پر قائم کریات اربعہ میں مزید رہائشی یونٹس شامل ہیں۔فلسطینی حلقوں کے مطابق یہ منصوبے اسرائیل کی اس پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد غیر قانونی بستیوں میں توسیع، فلسطینی زمینوں پر قبضہ اور زمینی حقائق کو تبدیل کرنا ہے۔