انقرہ ( ترکیہ خبر) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران ترکیہ نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کے باقی ماندہ حصوں کو ختم کرنے کی کوششوں میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔اقوام متحدہ میں ترکیہ کے مستقل نمائندے احمد یلدز نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ سابق بشار الاسد حکومت کے دور کی سب سے افسوسناک اور سنگین وراثتوں میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے باعث امید کی فضا پیدا ہوئی ہے، کیونکہ شامی حکومت بین الاقوامی اداروں اور کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے لیے قائم تنظیم کے ساتھ قریبی تعاون کر رہی ہے۔ترک مندوب کے مطابق شامی حکام اور بین الاقوامی ادارے مشترکہ طور پر سابق حکومت کے خفیہ کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام سے متعلق باقی ماندہ مواد، غیر ظاہر شدہ ہتھیاروں، کیمیکل ایجنٹس، آلات اور متعلقہ دستاویزات کی نشاندہی کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم برسوں پر محیط تنازع کے دوران شامی عوام کو شدید مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔احمد یلدز نے کہا کہ اس مسئلے کا حل ایک پیچیدہ اور تکنیکی عمل ہے، کیونکہ طویل عرصے تک معلومات چھپانے اور رکاوٹوں کے باعث کئی اہم خلا موجود ہیں جو تصدیقی عمل کو مشکل بنا رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ پائیدار پیش رفت صرف مرحلہ وار، عملی اور مربوط بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہے، جس میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے۔
ترکیہ کا شام کو کیمیائی ہتھیاروں سے پاک بنانے کے عمل کی حمایت کا اعلان
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ