انقرہ( ترکیہ خبر)ترکی کے شہر غازی انتپ میں ترک وزیر تجارت عمر بولات نے کہا ہے کہ ترکی، شام، اردن اور سعودی عرب پر مشتمل ٹرانزٹ راہداری حالیہ علاقائی صورتحال کے بعد خطے کی تجارت کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجارتی راہداری 15 اپریل سے کامیابی کے ساتھ فعال ہے اور حالیہ خلیجی کشیدگی نے اس کی اہمیت کو مزید واضح کر دیا ہے۔وزیر تجارت کے مطابق شام نے گزشتہ 14 سال کے دوران بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے، تاہم 8 دسمبر کے بعد وہاں ایک نئے اور نسبتاً مستحکم دور کا آغاز ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی، صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں، شام کی علاقائی سالمیت اور ایک فعال انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کے لیے مسلسل تعاون فراہم کر رہا ہے۔عمر بولات نے کہا کہ شام میں حالات بہتر ہونے کے ساتھ سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر کام جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ ترکی اور شام کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر بات چیت جاری ہے جبکہ مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی کے اجلاس میں کسٹمز، معیار سازی، سرمایہ کاری اور تجارتی روابط کے فروغ پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔وزیر تجارت نے کہا کہ ترکی کے راستے خلیجی ممالک تک ترسیلِ تجارت اب زیادہ مؤثر ہو گئی ہے، اور اس راہداری کو خطے میں معاشی بحالی اور تجارت کے فروغ کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب آبنائے ہرمز بند ہوئی تھی تو یہی تجارتی راستہ خطے کے لیے ایک اہم لائف لائن ثابت ہوا۔
ترکی، شام، اردن اور سعودی عرب کے درمیان ٹرانزٹ راہداری علاقائی تجارت کے لیے اہم ہے:عمر بولات
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ