لفکوشا ( ترکیہ خبر) ترک جمہوریہ شمالی قبرص (ٹی آر این سی) کے صدر توفان اہرہمان نے مشرقی بحیرہ روم اور قبرص سے متعلق ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے مؤقف کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور ترک قبرصی عوام کو سلامتی، توانائی اور بحری حدود سے متعلق معاملات سے الگ کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔یہ ردعمل صدر اردوان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ترکیہ اور ترک قبرصی عوام کے حقوق و مفادات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب واضح اور سخت ہوگا۔صدر اہرہمان نے "200 دن بطور صدر" کے عنوان سے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی حکومت قبرص اور مشرقی بحیرہ روم کے معاملات پر سفارتی راستہ اپناتے ہوئے ترک قبرصی عوام کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے ترکیہ کے ساتھ مل کر مختلف بین الاقوامی فورمز، جن میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم اور ترک ریاستوں کی تنظیم کے اجلاس شامل ہیں، میں شرکت کی ہے تاکہ سفارتی سطح پر اپنے مؤقف کو مضبوط کیا جا سکے۔انہوں نے واضح کیا کہ قبرص سے متعلق مذاکرات محض مذاکرات کے لیے نہیں بلکہ عملی نتائج کے لیے ہونے چاہئیں، اور اقوام متحدہ اور یونانی قبرصی انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے عوام کو مسلسل آگاہ رکھا جائے گا۔اسی دوران ترکیہ کی وزارتِ دفاع نے بھی کہا ہے کہ ترک قبرصی عوام اور ترکیہ کے مفادات کو نشانہ بنانے والے کسی بھی عسکری اتحاد کی کوئی کامیابی ممکن نہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ترک مسلح افواج کسی بھی خطرے کا بھرپور اور سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جبکہ مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی پیدا کرنے والی سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔وزارت نے یورپی ممالک کے بعض معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ سکتے ہیں اور بین الاقوامی قوانین اور قبرص سے متعلق 1960ء کے معاہدوں کے منافی ہیں۔
مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی: ترک قبرصی قیادت کی ترکیہ کے مؤقف کی حمایت
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ