پاکستان کی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل کا دوران جنگ مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق
اسلام آباد ( تر کیہ خبر) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ صدارتی قرارداد کی منظوری دے دی، جس میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلح تصادم شروع ہونے کے باوجود سفارتی کوششیں ترک نہ کی جائیں، جنگ بندی کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں اور کشیدگی میں اضافے کو روک کر پائیدار سیاسی حل کی راہ ہموار کی جائے۔’’جنگی حالات میں سفارت کاری کی اہمیت‘‘ کے عنوان سے منظور کیے گئے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ لڑائی کے دوران بھی سفارتی رابطے برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔ ایسے روابط شہریوں کی جان و مال کے تحفظ، تشدد میں کمی، تنازعات کو وسعت دینے سے روکنے اور متاثرہ آبادی تک انسانی امداد پہنچانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔سلامتی کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ متحارب فریقوں کے درمیان اختلافات کم کرنے اور مذاکرات کی راہیں کھولنے کے لیے ثالثی، دوستانہ سفارتی کوششوں اور براہِ راست یا بالواسطہ رابطوں سے کام لیں، خواہ میدانِ جنگ میں کارروائیاں جاری ہوں۔یہ صدارتی بیان نومبر کے لیے سلامتی کونسل کی صدر اور لٹویا کی سفیر سانیتا پاولوتا ڈیس لینڈس کی سربراہی میں منظور کیا گیا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر تنازعات کے پُرامن حل کی کوششوں میں اہم سنگ میل قرار دیا۔منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اس فیصلے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ جنگ اور دشمنی کے آغاز کے بعد سفارتی عمل ختم نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسے حالات میں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔پاکستان نے یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی روشنی میں آگے بڑھایا، جسے جولائی 2025 میں پاکستان کی کونسل کی صدارت کے دوران اتفاق رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق عالمی تنازعات کو پُرامن طریقوں سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔نئے بیان میں اسی مؤقف کو مزید وسعت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مسلح تصادم شروع ہونے، فریقین کے درمیان رابطے ختم ہونے کے خدشات اور کشیدگی میں اضافے کے امکانات کے باوجود سفارتی ذرائع کھلے رہنے چاہئیں۔سلامتی کونسل نے جنگ میں شریک فریقوں کے درمیان براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے مسلسل رابطوں کو ضروری قرار دیا۔ ایسے روابط غلط فہمیوں اور غلط اندازوں کا سدباب کرنے، تناؤ کم کرنے اور سیاسی مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔سید حیدر شاہ کے مطابق دوستانہ سفارتی اقدامات، رابطوں کے ذرائع فعال رکھنے اور مسلسل بات چیت کے ذریعے جنگی تصادم کو کم کرکے پُرامن تصفیے کی جانب پیش رفت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔بیان میں دورانِ جنگ سفارت کاری کے اہم اہداف بھی متعین کیے گئے ہیں، جن میں فوجی کارروائیوں کا خاتمہ یا عارضی طور پر روکنا، انسانی امداد کی محفوظ اور بلا تعطل ترسیل، عام شہریوں کا تحفظ اور تنازعات کو علاقائی یا عالمی سطح پر پھیلنے سے روکنا شامل ہیں۔کونسل نے واضح کیا کہ صرف جنگ ختم کرنا کافی نہیں، بلکہ جنگ بندی کے بعد بھی سیاسی اور سفارتی مذاکرات جاری رہنے چاہئیں تاکہ تنازع کا مستقل اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جا سکے۔سلامتی کونسل نے انفرادی ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں تنازعات کے دوران بھی ثالثی، دوستانہ روابط اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کا سلسلہ برقرار رکھنے کی ترغیب دی ہے۔علاقائی اور ذیلی علاقائی تنظیموں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ کونسل نے ان اداروں کی ثالثی کی صلاحیت بڑھانے کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ساتھ ان کے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ذمہ داریوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے، جن میں خصوصی نمائندوں، ایلچیوں اور ثالثوں کے ذریعے مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کی کوششیں شامل ہیں۔ سیکریٹری جنرل کو جنگ سے قبل اور دورانِ جنگ سفارتی اقدامات جاری رکھنے اور دیرپا سیاسی تصفیے کے لیے کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔سلامتی کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام سفارتی سرگرمیاں اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں رہ کر انجام دی جائیں۔عالمی ادارے کے دیگر فورمز، بالخصوص عالمی عدالت انصاف، کی اہمیت بھی تسلیم کی گئی ہے، جو ان تنازعات پر فیصلے دے سکتی ہے جن میں متعلقہ ممالک نے اس کے دائرہ اختیار کو قبول کر رکھا ہو۔پاکستانی مندوب سید حیدر شاہ نے مزید کہا کہ اس بیان کے ذریعے سلامتی کونسل کے مختلف تنازعات سے حاصل ہونے والے تجربات کو ایک مشترکہ پالیسی فریم ورک میں سمو دیا گیا ہے، جو موجودہ اور آئندہ تنازعات میں سفارتی کوششوں کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔