مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں دفاعی و سفارتی اہمیت بڑھے گی: فاطمہ تز زہر

مکہ دفاعی معاہدہ، پاکستان کی مشرق وسطیٰ میں دفاعی و سفارتی اہمیت بڑھے گی: فاطمہ تز زہر

باکو ( تر کیہ خبر) دی گلف آبزرور کی مدیر اعلیٰ اور گلف آبزرور ریسرچ فورم کی صدر فاطمہ تز زہرا نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی تزویراتی، دفاعی اور سفارتی اہمیت مزید بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاہدے سے پاکستان کی دفاعی اور اسلحہ سازی کی صنعت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے، جبکہ ترکیہ کو اجتماعی مسلم دفاعی تعاون کے تصور کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر ذریعہ مل سکتا ہے۔فاطمہ تز زہرا کے مطابق یہ معاہدہ ایسے وقت میں سعودی عرب کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے جب اسے سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز اور امریکا کی موجودہ دفاعی ضمانتوں کی حدود سے متعلق سوالات کا سامنا ہے۔بحر اوقیانوس کونسل کے ماہرین نے مکہ میں طے پانے والے سہ فریقی دفاعی معاہدے کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے درمیان ابھرتے ہوئے دفاعی تعاون کی اہم علامت قرار دیا ہے۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے اجتماعی سلامتی اور باہمی دفاع کا نظام قائم ہوگا۔فاطمہ تز زہرا نے کہا کہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون میں اہم پیش رفت ہے اور تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی روابط مزید مضبوط ہوسکتے ہیں۔ان کے مطابق پیچیدہ علاقائی سکیورٹی صورتحال کے دوران مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ معاہدہ خلیج اور وسیع تر مشرق وسطیٰ میں پاکستان کے سفارتی روابط پر بھی وسیع اثرات مرتب کرسکتا ہے، جبکہ اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے دفاعی و تزویراتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.