استنبول( ترکیہ خبر)ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم کالن نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات میں شرکت کی۔مصری وزارتِ خارجہ کے مطابق ان مذاکرات میں فلسطینی گروپوں کے نمائندوں، مصر اور قطر کے اعلیٰ حکام اور دیگر ضامن ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، جہاں جنگ بندی کے لیے ایک مجوزہ روڈ میپ پر غور کیا گیا۔مذاکرات کو مجموعی طور پر تعمیری ماحول قرار دیا گیا، جس میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کی تکمیل، غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل میں اضافہ اور زمینی سطح پر کشیدگی کم کرنے جیسے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔ایجنڈے میں غزہ کے انتظامی ڈھانچے، تعمیر نو، بین الاقوامی فورس کی تعیناتی اور جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار جیسے اہم امور بھی شامل تھے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ابراہیم کالن نے الگ ملاقاتوں میں مصری انٹیلی جنس چیف اور قطر کے وزیراعظم و وزیر خارجہ سے بھی تبادلہ خیال کیا، جس میں خطے کی صورتحال اور دیگر علاقائی تنازعات پر بات چیت کی گئی۔واضح رہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جس کے پہلے مرحلے میں قیدیوں کا تبادلہ، انسانی امداد کی رسائی اور بعض علاقوں سے جزوی انخلا شامل تھا۔تاہم فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیل نے معاہدے پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا اور بعض علاقوں میں کشیدگی بدستور جاری ہے۔مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں غزہ کی حکمرانی، تعمیر نو اور سیکیورٹی انتظامات جیسے اہم نکات پر فیصلہ متوقع ہے۔
غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر قاہرہ میں اہم مذاکرات، ترک انٹیلی جنس چیف کی شرکت
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ