جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی، 26ویں اور 27ویں ترامیم پر تحفظات

جسٹس محسن اختر کیانی مستعفی، 26ویں اور 27ویں ترامیم پر تحفظات

اسلام آباد (ترکیہ خبر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر پاکستان کو بھجوا دیا ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ سے تبادلے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سینیارٹی فہرست میں دوسرے جبکہ لاہور ہائیکورٹ میں دسویں نمبر پر تھے۔نئے ججز روسٹر میں ان کا تبادلہ راولپنڈی بینچ کیا گیا تھا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے 2032 میں ریٹائر ہونا تھا۔ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے کی نقل حاصل کرلی گئی ہے، جس میں انہوں نے ذاتی وجوہات، صحت کے مسائل اور ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دینے کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے عدالتی کیریئر کے دوران 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔استعفے کے متن کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ججز کی تقرری اور تبادلوں میں انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت عدلیہ کی آزادی کے لیے نقصان دہ ہے، جبکہ اس سے عدالتی خودمختاری اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔استعفے میں مزید کہا گیا کہ عام سائلین کی مشکلات بڑھ رہی ہیں اور انصاف کے متلاشی افراد کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کے مطابق ان کا ضمیر موجودہ حالات میں بطور جج فرائض جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔انہوں نے کہا کہ وہ وکالت کے شعبے میں واپس آکر عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی شعور اجاگر کرنے کے لیے کام کریں گے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.