ماسکو/انقرہ( ترکیہ خبر) ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اہم نکات پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے، تاہم بعض تکنیکی امور ابھی حل طلب ہیں۔روس کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تکنیکی ٹیموں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ ایران کے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کو کس طرح کمزور، مانیٹر اور تصدیق کے عمل سے گزارا جائے گا۔ان کے مطابق اصولی اتفاق موجود ہے لیکن اس پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر ابھی مزید بات چیت درکار ہے، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ اس عمل کی نگرانی کون کرے گا اور تصدیق کا نظام کیا ہوگا۔خاقان فیدان نے کہا کہ جنگی حالات، باہمی عدم اعتماد اور خطے کی صورتحال، بشمول لبنان میں اسرائیلی اقدامات، مذاکرات کی رفتار کو متاثر کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ امریکی فریق بعض معاملات پر ایک گھنٹے میں جواب دے دیتا ہے جبکہ ایرانی فریق کو بعض اوقات ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے، اسی وجہ سے انہوں نے دونوں فریقین کو براہ راست مذاکرات کی ترغیب دی ہے۔ترک وزیر خارجہ نے اسرائیل کی علاقائی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں عالمی مسئلہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں تباہی چاہتا ہے اور بعض ممالک پر قبضے اور تشدد کے ذریعے اثر انداز ہونا چاہتا ہے، جس کے عالمی سلامتی اور معیشت دونوں پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ان کے مطابق اسرائیل کو بڑھتی ہوئی سفارتی تنقید کا سامنا ہے اور امید ہے کہ یہ دباؤ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کا باعث بنے گا۔
اسرائیل خطے میں تباہی چاہتا ہے،امریکا اور ایران میں اصولی معاہدہ کا خیر مقدم کرتے ہیں:ترک وزیر خارجہ
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ