ترکی میں 5 ہزار سال پرانی آبادی سے یونانی نوادرات دریافت
انقرہ( تر کیہ خبر) جنوب مغربی ترکیہ میں 5 ہزار سال پرانی ایک قدیم آبادی کی کھدائی کے دوران ماہرین آثار قدیمہ نے یونان کے جزیرے میلوس سے تعلق رکھنے والا آتش فشانی شیشہ دریافت کیا ہے، جس سے کانسی کے ابتدائی دور میں اس مقام کے بیرونِ ملک روابط کے نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔کھدائی کے دوران دریافت ہونے والا ابسڈیئن ایک قدرتی آتش فشانی شیشہ ہے، جسے قبل از تاریخ دور میں کاٹنے والے اوزار بنانے کے لیے قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ یہ دریافت مولا صوبے میں واقع چاتیلار ٹیلے کے مقام سے ہوئی، جو سمندر سے تقریباً 100 کلومیٹر دور اور سطح سمندر سے 1287 میٹر بلند ہے۔یہ کھدائی 2021 میں شروع کی گئی تھی، جو اب ترکیہ کی وزارت ثقافت و سیاحت کے "مستقبل کے لیے ورثہ" منصوبے کے تحت جاری ہے۔ اس مہم کی قیادت ہاجت تپہ یونیورسٹی کی ماہر آثار قدیمہ عائشہ گل آیکورت کر رہی ہیں۔رواں سال کی کھدائی میں تقریباً 2400 قبل مسیح سے تعلق رکھنے والی قدیم آبادی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔عائشہ گل آیکورت نے بتایا کہ کھدائی کے دوران میلوس کے آتش فشانی شیشے سے بنے تراشے گئے پتھر کے اوزار دریافت ہوئے ہیں، جو اس بات کا اہم ثبوت ہیں کہ یہ قدیم آبادی بیرونِ ملک علاقوں سے رابطے رکھتی تھی۔یہ آتش فشانی شیشہ بحیرہ ایجیئن کے سائیکلیڈز خطے میں واقع یونانی جزیرے میلوس سے آیا تھا، جو قدیم دور میں اس مواد کے لیے مشہور ترین مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ ماہرین نے سائیکلیڈز طرز کے برتن کا ایک ٹکڑا اور مغربی ایجیئن خطے سے تعلق رکھنے والا دھاگہ نما وزن بھی دریافت کیا ہے۔اسی تہہ سے وسطی اناطولیہ سے حاصل کیے گئے آتش فشانی شیشے سے بنے اوزار بھی ملے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آبادی اندرونی علاقوں سے بھی روابط رکھتی تھی۔عائشہ گل آیکورت کے مطابق ممکن ہے کہ اس قدیم آبادی کے لوگوں نے دریائے ایسن کے راستے تجارت کے ذریعے سمندر پار علاقوں سے تعلقات قائم کیے ہوں۔