ترکیے خبر

ماحولیاتی مسائل اب عالمی سطح پر ایک مشترکہ چیلنج بن چکے ہیں: امینہ اردوان

ماحولیاتی مسائل اب عالمی سطح پر ایک مشترکہ چیلنج بن چکے ہیں: امینہ اردوان

انقرہ( ترکیہ خبر)دنیا بھر میں ہر سال تقریباً 5.8 کھرب پلیٹوں کے برابر خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جو ضرورت مند افراد تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ اسی دوران 673 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں جبکہ 2 ارب سے زائد افراد مناسب غذائیت سے محروم ہیں۔استنبول میں منعقدہ زیرو ویسٹ فورم 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کی خاتون اول امینہ اردوان نے زیرو ویسٹ تحریک کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا اور اسے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف عالمی جدوجہد کا ایک اہم اور مؤثر ذریعہ قرار دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ فورم انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لیے ایک تاریخی اجتماع ہے، جس میں دنیا بھر سے مختلف ممالک اور ادارے ایک مشترکہ مقصد کے تحت اکٹھے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں 183 ممالک، 500 سے زائد اداروں اور 5 ہزار سے زیادہ شرکاء کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی مسائل اب عالمی سطح پر ایک مشترکہ چیلنج بن چکے ہیں۔خاتون اول نے کہا کہ استنبول، جو دنیا کے قدیم ترین اور طویل عرصے تک آباد رہنے والے شہروں میں سے ایک ہے، اس اہم عالمی فورم کی میزبانی کر رہا ہے، جو مستقبل کے لیے ایک نئی سوچ کو فروغ دے سکتا ہے۔انہوں نے زیرو ویسٹ فاؤنڈیشن، مختلف وزارتوں اور استنبول انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر منعقد ہونے والا ایک نہایت اہم ماحولیاتی اجتماع ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے شمالی بحرالکاہل میں موجود 1.6 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلے کچرے کے بڑے ڈھیر کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ انسانیت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کا ایک واضح ثبوت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ سمندروں میں روزانہ ہزاروں کچرا گاڑیوں کے برابر پلاسٹک پھینکا جا رہا ہے، جو محض صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین عالمی بحران ہے۔امینہ اردوان نے مزید کہا کہ مائیکرو پلاسٹک کی موجودگی انٹارکٹیکا سے لے کر ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندیوں تک پہنچ چکی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اب کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہی بلکہ پوری زمین کو متاثر کر رہی ہے۔