مشرقی ایشیا اجلاس، اتحاد اور تعاون پر زور
استنبول( تر کیہ خبر) فلپائن نے جمعرات کو مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس (ای اے ایس) کے وزرائے خارجہ کا 16واں اجلاس منعقد کیا، جس میں خطے کو درپیش بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور نئے سیکیورٹی چیلنجز کے پیش نظر رکن ممالک پر اتحاد اور تعاون مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے فلپائن کی وزیر خارجہ تھریسا لازارو نے کہا کہ موجودہ دور میں جب عالمی نظام جنگوں، معاشی غیر یقینی صورتحال، موسمیاتی آفات اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلیوں کے باعث تبدیل ہو رہا ہے، مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس علاقائی مذاکرات کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم برقرار ہے۔انہوں نے ای اے ایس کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان چیلنجز کے باوجود نہیں بلکہ انہی مسائل کی وجہ سے ضروری ہے کہ تمام ممالک متحد ہو کر کام جاری رکھیں۔تھریسا لازارو نے یاد دلایا کہ ای اے ایس کا قیام دو دہائیاں قبل مساوات، شراکت داری، مشاورت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے کیا گیا تھا، جس کا مقصد بحرالکاہل اور اس سے آگے کے علاقوں میں امن، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دینا تھا۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دنیا کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا رہا، جن میں کورونا وبا، مختلف خطوں میں تنازعات، گزشتہ سال کے تجارتی تنازعات، مشرق وسطیٰ کا بحران، بڑھتی ہوئی قدرتی آفات اور جدید دوہرے استعمال والی ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے مواقع اور خطرات شامل ہیں۔لازارو نے کہا کہ آج کے چیلنجز سے نمٹنے کا طریقہ ہی طے کرے گا کہ مستقبل میں ہر ملک کس حد تک کامیاب رہتا ہے۔ انہوں نے ای اے ایس کو اسٹریٹجک، سیاسی اور اقتصادی معاملات پر کھلے مذاکرات، واضح تبادلہ خیال اور عملی تعاون کا پلیٹ فارم قرار دیا۔فلپائن کی وزیر خارجہ نے ای اے ایس کو ایک کھلے، جامع، شفاف اور عالمی رابطوں کے حامل فورم کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریباً دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل خطے میں مستحکم اور قابلِ پیش گوئی علاقائی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے کی ذمہ داری رکھتا ہے۔یہ اجلاس فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان وزرائے خارجہ کے 59ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوا، جس میں آسیان کے 10 رکن ممالک کے علاوہ آٹھ شراکت دار ممالک آسٹریلیا، چین، بھارت، جاپان، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا، روس اور امریکا کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور اسٹریٹجک چیلنجز سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔