اے آئی کمپنیوں کی جانب سے نایاب کتابیں خریدنے کے دعووں پر سوالات
استنبول( تر کیہ خبر) مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے یورپ کی پرانی کتابوں کی دکانوں سے بڑی تعداد میں کتابیں خرید کر انہیں اے آئی تربیت کے لیے اسکین کرنے کے دعووں نے کتاب فروشوں، ناشرین اور قارئین کے درمیان بحث چھیڑ دی ہے، تاہم ترکی کے ایک معروف قدیم کتاب فروش کا کہنا ہے کہ اس عمل کے بڑے پیمانے پر ہونے کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ترکوانز صحاف کے مالک، مصنف، مدیر اور ناشر ندرت اشلی نے خبر رساں ادارے اناطولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان رپورٹس پر شکوک رکھتے ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اے آئی کمپنیاں قدیم کتابوں کی دکانوں سے کتابیں بڑی تعداد میں خرید کر ذخیرہ ختم کر رہی ہیں۔ندرت اشلی نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا اور برطانیہ و نیدرلینڈز میں کتاب فروشوں اور کتابوں کے جمع کرنے والوں سے بھی بات کی۔ ان کے مطابق ان افراد نے بتایا کہ یورپ میں یہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں بنا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی نمایاں عوامی بحث جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز میں مقیم ایک دوست نے بھی تصدیق کی ہے کہ اے آئی کمپنیوں کی جانب سے پرانی کتابوں کی خریداری کا عمل نہ تو بڑے پیمانے پر جاری ہے اور نہ ہی یہ کسی اہم بحث کا موضوع ہے۔ندرت اشلی نے ان دعوؤں کو بھی غیر منطقی قرار دیا کہ اے آئی کمپنیاں نایاب کتابیں خرید کر انہیں اسکین کرنے کے بعد ضائع کر دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کمپنیاں منافع کمانے کے لیے کام کرتی ہیں، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ادارہ کتاب خرید کر اسے اسکین کرنے کے بعد تباہ کیوں کرے گا؟