حوثیوں سے مذاکرات مسئلے کا حل نہیں، سعودی ماہر

حوثیوں سے مذاکرات مسئلے کا حل نہیں، سعودی ماہر

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کے خلیجی امور کے ماہر اور گلف ریسرچ سینٹر کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نے کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے ساتھ سیاسی مذاکرات سے مسئلے کے حل کی توقع نہیں، کیونکہ ماضی میں مذاکرات ان کے رویے میں تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں۔عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 10 اور 11 اکتوبر کو ہونے والے حملوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کو ایران کی حمایت اور رہنمائی حاصل ہے اور وہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانے کے لیے اہم تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون سعودی عرب سمیت پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ کسی بھی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے سو فیصد تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ڈاکٹر عبدالعزیز صقر نے ایران کی جانب سے ثالثی کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تہران یمن میں مداخلت بند کرے۔ان کا کہنا تھا کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیت کمزور کرنے کے بعد ہی مذاکرات پر غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ سعودی عرب اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے امریکا، پاکستان، ترکیہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ عسکری تعاون، انٹیلی جنس کے تبادلے اور دفاعی نظاموں کی فراہمی کے سلسلے میں شراکت داری مزید مستحکم کرے۔


© 2026 ترکیہ خبر. تمام حقوق محفوظ ہیں. ٹوگیدر میڈیا کی پیشکش.