ترکیہ خبر

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: ہائی کورٹس کے رِٹ مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے

سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: ہائی کورٹس کے رِٹ مقدمات وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے

اسلام آباد( ترکیہ خبر)سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ہائی کورٹس کے رِٹ مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے، جبکہ دیگر اپیلیں سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں ہی رہیں گی۔عدالت کے مطابق سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت آئینی طور پر خودمختار ادارے ہیں اور کوئی بھی عدالت دوسری کی اپیلیٹ اتھارٹی نہیں ہے۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 189 کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے طے کردہ قانونی اصول دیگر عدالتوں پر لازم ہوں گے۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کے 17 فروری 2020 کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ جاری کیا۔13 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار واضح طور پر تقسیم ہو چکا ہے، جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت آنے والے رِٹ مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں جائیں گے، جبکہ سول اور فوجداری اپیلیں آرٹیکل 185 کے تحت سپریم کورٹ میں ہی سنی جائیں گی۔عدالت نے واضح کیا کہ اس تقسیم کا مقصد عدالتی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے دائرہ اختیار کو منظم کرنا ہے، نہ کہ کسی ایک عدالت کو دوسری کے تابع بنانا۔