مظفرآباد( ترکیہ خبر)مظفرآباد میں منعقدہ آل پارٹیز اجلاس نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کر لی جس میں جمہوری عمل، آئینی تسلسل اور ریاستی استحکام کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور موجودہ سیاسی صورتحال سمیت اہم عوامی امور پر تفصیلی غور کیا۔اجلاس کے شرکا نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ آزادی کی جدوجہد کے لیے سیاسی، اخلاقی اور سفارتی تعاون جاری رکھا جائے گا۔قرارداد میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکا نے ان اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جمہوری تسلسل اور آئینی عمل ریاستی استحکام کی بنیاد ہیں۔ سیاسی اختلاف رائے کو جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی صورت ادارہ جاتی نظام کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔قرارداد میں برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا، جبکہ قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے ریاستی استحکام کے لیے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ عام انتخابات آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پرامن ماحول میں کرائے جائیں گے اور اس مقصد کے لیے تمام ضروری انتظامات یقینی بنائے جائیں گے۔