ترکیہ خبر

پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی میں 14.52 فیصد اضافہ، عوام چیخ اٹھی

پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی میں 14.52 فیصد اضافہ، عوام چیخ اٹھی

اسلام آباد( ترکیہ خبر) پاکستان میں قلیل مدتی مہنگائی میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں حساس قیمتوں کے اشاریے میں 14 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران سالانہ بنیادوں پر 14.52 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر بھی حساس قیمتوں کے اشاریے میں 0.47 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سخت مالیاتی پالیسی اور معاشی سست روی کے باوجود مہنگائی کا دباؤ برقرار ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں سالانہ 64.23 فیصد اور ڈیزل میں 61.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح آٹے کی قیمت میں 57.56 فیصد، کم ترین بجلی صارفین کے بلوں میں 52.58 فیصد، ایل پی جی میں 48.34 فیصد، پیاز میں 50.06 فیصد اور ٹماٹر میں 40.66 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر جاری کشیدگی اور تیل و ترسیل کے اخراجات میں اضافے کے اثرات پاکستان میں خوراک اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن سے وابستہ ماہر معاشیات ڈاکٹر جاذب ممتاز نے کہا کہ مہنگائی میں اضافہ بنیادی طور پر سپلائی چین کے مسائل اور بڑھتے ہوئے ٹرانسپورٹ اخراجات کی وجہ سے ہے۔ ان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے فریٹ لاگت میں اضافہ ہوا، جس کے باعث درآمدی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ گئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عوام میں خوف اور ذخیرہ اندوزی کے رجحان نے بھی قیمتوں میں اضافے کو ہوا دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی پر غور کرنا چاہیے۔ہفتہ وار بنیاد پر سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹر کی قیمت میں 22.13 فیصد ریکارڈ کیا گیا، جبکہ آٹا 4.94 فیصد، ڈیزل 3.76 فیصد اور پیٹرول 3.73 فیصد مہنگا ہوا۔ اس کے باوجود چکن، انڈوں اور دالوں کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی جو مجموعی مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے میں ناکام رہی۔بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق مئی 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس 11 سے 11.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو گزشتہ 23 ماہ کی بلند ترین سطح ہوگی۔ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے معاشی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔