پشاور( ترکیہ خبر) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبے میں افغان مہاجرین کی موجودہ صورتحال سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں کمشنر افغان ریفیوجیز شکیل صافی نے تفصیلی بریفنگ دی جبکہ چیئرمین انجمن ہلال احمر ضم اضلاع عمران وزیر اور نادرا کے حکام نے بھی شرکت کی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں افغان مہاجرین کے لیے مجموعی طور پر بیالیس سے زائد کیمپس قائم کیے گئے تھے جن میں سے دس کیمپس افغان مہاجرین کی واپسی کے بعد خالی ہو چکے ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ دو ہزار تئیس سے دو ہزار پچیس تک مرحلہ وار واپسی کے دوران تقریباً بیس لاکھ غیر قانونی مقیم افغان مہاجرین اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔نادرا حکام کے مطابق لنڈی کوتل اور طورخم بارڈر پر بائیو میٹرک اور ڈیٹا اندراج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے تاکہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد سرحد پار کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طورخم بارڈر سے روزانہ تقریباً تین ہزار مہاجرین کی واپسی جاری ہے تاہم سیکیورٹی وجوہات کے باعث بارڈر کی بندش سے بعض اوقات مشکلات پیش آتی ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ غیر قانونی مقیم مہاجرین کے بینک اکاؤنٹس اور موبائل سمز بھی بند کیے جا چکے ہیں جبکہ ہلال احمر ضم اضلاع کی جانب سے طورخم بارڈر پر صحت اور امدادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے نادرا حکام کو ہدایت کی کہ مختلف کیمپس میں افغان مہاجرین کی بائیو میٹرک اور ڈیٹا اندراج کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تاکہ واپسی کے عمل میں سہولت پیدا ہو۔انہوں نے کہا کہ مناسب سہولیات اور بہتر انتظامات سے سرحد پار واپسی کے عمل میں بہتری آئے گی اور مشکلات میں کمی واقع ہوگی۔
خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کی واپسی، گورنر کی زیر صدارت اجلاس میں صورتحال کا جائزہ
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان