سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف متوازی اپیل نہیں ہو سکتی:وفاقی آئینی عدالت

1 ماہ قبل
سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف متوازی اپیل نہیں ہو سکتی:وفاقی آئینی عدالت

اسلام آباد( ترکیہ خبر) وفاقی آئینی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریری حکم میں کہا کہ ستائیسویں ترمیم میں وفاقی آئینی عدالت کو سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہیں ملا۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا اور قانونی جنگ کا کہیں نہ کہیں اختتام ضروری ہے۔چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 188 کے تحت نظرثانی کا حق محدود ہے اور سپریم کورٹ سے نظرثانی مسترد ہونے کے بعد معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے کا کیس اس معاملے سے متعلق تھا۔