امریکہ نے ایران سے براہِ راست مذاکرات کا اشارہ دے دیا

3 ماہ قبل
امریکہ نے ایران سے براہِ راست مذاکرات کا اشارہ دے دیا

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی مشیر اور سابق ترجمانِ خارجہ مورگن اورٹاگس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ اب بھی ایران کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم یہ عمل اسی صورت میں آگے بڑھے گا جب تہران براہِ راست اور نتیجہ خیز بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کرے گا۔سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ عوامی سطح پر یا میڈیا کے سامنے مذاکرات نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی ادوار میں ایران کی طرف سفارت کاری کا ہاتھ بڑھایا ہے اور بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے کہا ہے کہ تہران اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور حقیقی مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب فرانس، برطانیہ اور امریکہ کو اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اور قابلِ عمل اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایرانی سفیر نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کے بنیادی نکات پر بدستور قائم ہے، جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کیا گیا تھا۔یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے پر اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد طے پانے والا مذاکرات کا چھٹا دور بھی منسوخ کر دیا گیا تھا۔