واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ زور دار حملے کے امکانات کے درمیان مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے اور امریکی فوجی اڈوں پر نفری میں کمی کی گئی ہے۔امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ مختصر مگر فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں، جبکہ ایران نے اپنی فضائی حدود جزوی طور پر بند اور بحال کرنے کے بعد ملک میں امن و امان برقرار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مظاہرین کو پھانسی دینے کی خبریں بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایران کے عزم کو کسی بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق آرمی چیف نے شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں فوری دفاعی تیاریوں کا حکم دیا ہے اور بم شیلٹر کھول دیے گئے ہیں۔ امریکہ نے ایران کے 50 ممکنہ اہداف کی نشاندہی کی ہے، جن میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹرز اور 23 فوجی اڈے شامل ہیں۔قطر اور دیگر ممالک نے بھی مشرق وسطی میں امریکی فوجی عملے کی تعداد کم کی ہے، جبکہ جرمن ائیرلائن نے اسرائیل کے لیے پروازیں 19 جنوری تک بند کر دی ہیں اور ایئر انڈیا نے ایرانی فضائی حدود کا استعمال معطل کر دیا ہے۔اسی دوران امریکی صدر نے ایران کے حزبِ اختلاف کے رہنما رضا پہلوی کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار کیا، کہا کہ وہ اچھے لگتے ہیں مگر ان کی ایران میں قیادت کے امکانات واضح نہیں ہیں۔
ایران پر امریکی ممکنہ حملے کی تیاری، ایران و اسرائیل میں حفاظتی اقدامات جاری
2 ماہ قبل