امریکہ اور اسرائیل کی حماس کو اسلحہ چھوڑنے کی دو ماہ کی مہلت

3 ماہ قبل
امریکہ اور اسرائیل کی حماس کو اسلحہ چھوڑنے کی دو ماہ کی مہلت

تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حماس کے غیر مسلح ہونے سے متعلق ایک اہم اتفاق رائے طے پا گیا ہے۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق اس منصوبے کے تحت حماس کو اپنے ہتھیار ختم کرنے کے لیے حتمی طور پر دو ماہ کی مہلت دی جائے گی، جبکہ اس عمل کو یقینی بنانے کے لیے واضح اور قابلِ عمل اصول بھی مقرر کیے جائیں گے۔ادھر اسرائیلی ٹی وی چینل نے دعوی کیا ہے کہ غزہ کے علاقے رفح میں تعمیرِ نو کا عمل حماس کے غیر مسلح ہونے سے قبل ہی شروع کر دیا جائے گا، جسے زمینی صورتحال میں بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اسی حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سخت مقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس نے جلد اپنے ہتھیار ختم نہ کیے تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں 10 اکتوبر سے ایک محدود نوعیت کی جنگ بندی نافذ ہے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے 20 نکاتی روڈ میپ کے تحت قائم ہوئی اور اسے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد دو سال سے زائد عرصے سے جاری تنازع کا خاتمہ ہے، تاہم اس کے دوسرے مرحلے کو سب سے زیادہ پیچیدہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مرحلے میں حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی شامل ہے، جبکہ حماس اب تک اس حوالے سے تمام مطالبات مسترد کرتی رہی ہے۔