استنبول( ترکیہ خبر) ترکیہ نے غزہ جانے والے عالمی امدادی بیڑے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ پر اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سمندری حدود میں کی جانے والی ’’نئی بحری قزاقی‘‘ قرار دے دیا۔ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کیلئے انسانی امداد لے جانے والے بیڑے کو بین الاقوامی پانیوں میں روک کر مداخلت کی، جو عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ امدادی بیڑے میں تقریباً 40 ممالک کے شہری سوار تھے اور اسرائیل کی دھمکیوں اور حملوں کے باوجود فلسطینی عوام کے ساتھ عالمی یکجہتی کو نہیں روکا جا سکتا۔ترک وزارت خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر کارروائی بند کرے اور زیر حراست تمام کارکنوں کو بلا شرط رہا کیا جائے۔وزارت کے مطابق بیڑے میں موجود ترک شہریوں کی محفوظ واپسی یقینی بنانے کیلئے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں رہ کر صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے پیر کے روز غزہ جانے والے ’’گلوبل صمود‘‘ امدادی بیڑے پر بین الاقوامی سمندری حدود میں کارروائی کی۔ براہِ راست نشریات میں اسرائیلی بحریہ کو جہازوں کو ایک ایک کر کے گھیرتے دیکھا گیا۔اسرائیلی اخبار ’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے مطابق گرفتار کارکنوں کو ایک بحری جہاز میں منتقل کیا گیا، جسے ’’تیرتی جیل‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، بعد ازاں انہیں اشدود بندرگاہ لے جایا جائے گا۔
غزہ امدادی بیڑے پر اسرائیلی کارروائی، ترکیہ نے نئی بحری قزاقی قرار دے دیا
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ