ترکیہ دنیا کا چوتھا بڑا ڈیپ سی ڈرلنگ فلیٹ رکھنے والا ملک بن گیا

3 ماہ قبل
ترکیہ دنیا کا چوتھا بڑا ڈیپ سی ڈرلنگ فلیٹ رکھنے والا ملک بن گیا

انقرہ(ترکیہ خبر) ترکیہ نے توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کرتے ہوئے دو جدید ترین الٹرا ڈیپ واٹر ڈرلنگ جہاز اپنے قومی فلیٹ میں شامل کر لیے ہیں۔ صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ ان جہازوں کو "چاغری بے" اور "یلدرم" کے نام دیے گئے ہیں، جن میں سے ایک صومالیہ کے ساحلی پانیوں جبکہ دوسرا بحیرہ اسود میں توانائی کی تلاش کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ان جہازوں کی شمولیت کے بعد ترکیہ دنیا کا چوتھا بڑا ڈیپ سی ڈرلنگ فلیٹ رکھنے والا ملک بن گیا ہے۔ توانائی و قدرتی وسائل کی وزارت کے مطابق یہ دونوں جہاز ترک پیٹرولیم کارپوریشن کے تحت کام کریں گے، جس کے بعد ترکیہ کے الٹرا ڈیپ واٹر ڈرلنگ جہازوں کی تعداد چار سے بڑھ کر چھ ہو گئی ہے۔"چاغری بے" کو صومالیہ کے ساحل پر تعینات کیا جائے گا اور یہ جہاز تاشوجو پورٹ پر تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ جنوری 2026 کے اختتام تک اپنی پہلی ڈرلنگ مہم کے لیے مکمل طور پر تیار ہو جائے گا۔ اس سے قبل ترکیہ کے تحقیقی جہاز نے صومالیہ کے سمندری علاقے میں ہزاروں مربع کلومیٹر پر محیط ڈیٹا اکٹھا کیا تھا، جس کا تجزیہ انقرہ میں جاری ہے۔دوسری جانب "یلدرم" بحیرہ اسود میں توانائی کی تلاش کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ یہ جہاز فیلیوس پورٹ پہنچنے کے بعد سکاریہ گیس فیلڈ منصوبے کے تحت مارچ کے اختتام تک اپنی پہلی ویل کمپلیشن آپریشن شروع کرے گا۔ اس منصوبے میں پہلے سے موجود ڈرلنگ جہاز بھی سرگرم عمل ہیں۔یہ دونوں جہاز ساتویں نسل کے الٹرا ڈیپ واٹر ڈرلنگ جہاز ہیں، جن کی لمبائی 228 میٹر اور چوڑائی 42 میٹر ہے، جبکہ یہ 12 ہزار میٹر گہرائی تک ڈرلنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں ہیلی پیڈ اور 200 افراد کے لیے رہائشی سہولیات بھی موجود ہیں، جو طویل آف شور آپریشنز کو ممکن بناتی ہیں۔ماہرین کے مطابق ان جدید جہازوں کی شمولیت ترکیہ کی توانائی خود کفالت کی پالیسی کو مزید مضبوط کرے گی اور بیرون ملک توانائی وسائل کی تلاش میں ترکیہ کے کردار کو نئی طاقت دے گی۔