استنبول ( تر کیہ خبر) رجب طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ صدی میں تیل اور کاربن ایندھن پر ہونے والی کشمکش مستقبل میں پانی پر منتقل ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر طاقت کے حصول کی دوڑ تیز ہو رہی ہے۔آبی منصوبوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی، خشک سالی، آبادی میں اضافہ، شہری پھیلاؤ اور صنعتی ترقی جیسے عوامل دنیا بھر میں پانی کے وسائل پر شدید دباؤ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں تقریباً دو ارب سے زائد افراد صاف پینے کے پانی سے محروم ہیں، جبکہ ایک عالمی رپورٹ کے مطابق سن دو ہزار پچاس تک لگ بھگ چھ ارب افراد کو مناسب صاف پانی دستیاب نہیں ہوگا۔صدر اردوان نے کہا کہ موجودہ صدی میں پانی ایک اسٹریٹجک اور نہایت قیمتی وسیلہ بن چکا ہے جو پیداوار اور توانائی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور اس پر کنٹرول عالمی طاقتوں کے درمیان اہم معاملہ بنتا جا رہا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا کے کل پانی کا صرف ڈھائی فیصد حصہ میٹھے پانی پر مشتمل ہے، جبکہ عالمی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے مگر بارشوں کی مقدار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جس سے مستقبل میں پانی کی قلت ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔