استنبول( ترکیہ خبر) استنبول سے تعلق رکھنے والی ترک طالبہ رومیسا اوزترک اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئی ہیں، جنہیں قبل ازیں امریکا میں امیگریشن حکام نے حراست میں لیا تھا۔امریکی سول لبرٹیز یونین (ACLU) کے مطابق اوزترک نے چائلڈ اسٹڈی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ میں ڈاکٹریٹ پروگرام کامیابی سے مکمل کیا۔ انہیں امریکی ریاست میساچوسٹس میں اس وقت حراست میں لیا گیا تھا جب انہوں نے ایک تعلیمی جریدے میں فلسطین کے حق میں مضمون میں شریک مصنفہ کے طور پر رائے دی تھی۔رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا جب امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کے اہلکاروں نے انہیں میساچوسٹس کے علاقے سومروِل میں ٹفٹس یونیورسٹی کے قریب حراست میں لیا۔بعد ازاں فریقین کے درمیان وفاقی عدالت میں قانونی تنازع کے حل اور امیگریشن کارروائی ختم کرنے پر اتفاق ہوا، جس کے بعد وہ رہا ہوئیں۔ACLU کے بیان کے مطابق رومیسا اوزترک نے کہا کہ انہوں نے طویل محنت کے بعد اپنی تعلیم مکمل کی ہے اور وہ اب اپنے وطن واپس آ کر بطور محققہ اپنا کام جاری رکھیں گی۔انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ دورانِ حراست انہیں جس وقت اور تجربے کا سامنا کرنا پڑا وہ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ ان بچوں اور نوجوانوں کے لیے بھی اہم ہے جن کی وہ وکالت کرتی رہی ہیں۔
فلسطین کے حق میں مضمون کے بعد گرفتار ترک طالبہ پی ایچ ڈی مکمل کر کے وطن واپس پہنچ گئیں
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ