لیفکوشا( تر کیہ خبر)ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے وزیر اعظم انال اُستل نے کہا ہے کہ فاماگوستا کے علاقے بیارمودو میں حالیہ صورتحال کے پیش نظر ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اپنے تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ حکام صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور ریاست کی خودمختاری کے حوالے سے تمام فیصلے پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یونانی قبرصی انتظامیہ کی جانب سے منہ کھر بیماری کو جواز بنا کر علاقے میں مبینہ غیر قانونی داخلے کی کوششوں کو سکیورٹی فورسز نے زمینی سطح پر اقدامات بڑھا کر ناکام بنا دیا۔انال اُستل کے مطابق اقوام متحدہ کی امن فوج برائے قبرص کے ساتھ مذاکرات اور ضروری یقین دہانیوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی اقدامات میں نرمی کر دی گئی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ حکام ملکی سرحدوں، خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کیلئے آئندہ بھی بھرپور اقدامات جاری رکھیں گے، جبکہ خطے میں امن اور استحکام کو اولین ترجیح دی جائے گی۔اس سے قبل رواں ہفتے اقوام متحدہ کی امن فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ ترک قبرصی سکیورٹی فورسز نے چیہان دوزو کے بفر زون کی خلاف ورزی کی، تاہم ترک قبرصی وزارت خارجہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ علاقہ اس کی خودمختار حدود میں شامل ہے۔بدھ کی صبح سکیورٹی فورسز نے اقوام متحدہ کے ہمراہ آنے والے ایک یونانی قبرصی ویٹرنری ڈاکٹر کو علاقے میں داخلے سے روک دیا، جبکہ یونانی قبرصی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ترک فوجی علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں۔بعد ازاں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس وقت علاقے میں صورتحال پر سکون ہے۔