برلن( ترکیہ خبر) ترک ایرو اسپیس انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ترکش ایرو اسپیس انڈسٹریز نے دعویٰ کیا ہے کہ ترکی نے جدید جنگی طیاروں کی ترقی میں یورپی ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جبکہ یورپ کے کئی منصوبے ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں۔جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ترکی کے سفارت خانے میں منعقدہ کانفرنس کے دوران میہمت ڈیمیر اوغلو نے کہا کہ یورپ کے ٹییمپسٹ اور ایف سی اے ایس جیسے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، جبکہ ترکی کا جدید جنگی طیارہ “قاآن” فروری 2024 میں اپنی پہلی پرواز کر چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2005 کے بعد کمپنی نے 13 منفرد ایوی ایشن پلیٹ فارمز تیار کیے اور انقرہ میں 40 لاکھ مربع میٹر پر مشتمل جدید کیمپس قائم کیا، جہاں 16 ہزار سے زائد افراد کام کر رہے ہیں۔ان کے مطابق کمپنی دنیا کی بڑی فضائی صنعتوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور تقریباً تمام جدید مسافر طیاروں کے لیے ساختی پرزے فراہم کیے جا رہے ہیں، جن میں ایئربس بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ صومالیہ میں قائم نیا اسپیس سینٹر ترکی کو خلا میں خود انحصاری کی طرف لے جائے گا، جبکہ عالمی خلائی دوڑ میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی۔سی ای او کے مطابق 2020 کی دہائی کے آغاز میں ہنر مند افراد کے بیرون ملک جانے کا رجحان تھا، تاہم اب یہ صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور زیادہ ماہرین واپس ترکی آ رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمپنی یورپ کے دوسرے بڑے سب سونک ونڈ ٹنل کو بھی چلا رہی ہے جو فضائی تجربات اور تحقیق کے لیے استعمال ہوتا ہے۔آخر میں انہوں نے نوجوان ترک تارکین وطن سے اپیل کی کہ وہ وطن واپس آ کر ملک کی بڑھتی ہوئی دفاعی اور ٹیکنالوجی صنعت میں کردار ادا کریں۔
ترکی نے جدید جنگی طیاروں کی دوڑ میں یورپ کو پیچھے چھوڑ دیا، ٹی اے آئی سی ای او کا دعویٰ
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ