انقرہ( ترکیہ خبر) بیلجیم کی ملکہ میتھلڈے اور ان کے وفد نے ترکیہ کا پانچ روزہ اقتصادی دورہ مکمل کر لیا، جس کے دوران توانائی، دفاع اور دیگر اہم شعبوں میں تقریباً 40 نئے تجارتی معاہدے طے پائے۔یہ اقتصادی مشن ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کی دعوت پر منعقد کیا گیا، جو گزشتہ 14 برسوں میں بیلجیم کی پہلی اعلیٰ سطحی سفارتی اور تجارتی سرگرمی ہے۔دورے میں بیلجیم کے نائب وزیراعظم میکسیم پریوو اور وزیر دفاع تھیو فرانکن سمیت 428 کاروباری شخصیات اور اعلیٰ حکومتی نمائندوں پر مشتمل بڑا وفد شریک تھا۔اس کے علاوہ برسلز ریجن کے وزیراعظم بورس ڈیلز، فلیمش ریجن کے وزیراعظم میتھیاس ڈپنڈیل اور والون ریجن کے نائب وزیراعظم پیئر-یوس جولیٹ نے بھی وفد میں شرکت کی۔صدر ایردوان اور ملکہ میتھلڈے نے خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ترکیہ اور یورپی یونین کے تعلقات کی اسٹریٹجک اہمیت پر زور دیا۔ ترک صدر نے کہا کہ کسٹمز یونین کی تجدید یورپی یونین کی مکمل رکنیت کی جانب ایک اہم اور فوری قدم ہے۔دورے کے دوران ترک وزیر تجارت عمر بولات نے ملکہ اور وفد سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تجارت اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے پر گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں عمر بولات اور بیلجیئم کے نائب وزیراعظم نے باہمی تجارت کے فروغ کے لیے ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے۔استنبول میں منعقدہ سرمایہ کاری اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان 9.2 ارب ڈالر کی موجودہ تجارتی حجم کو مزید مؤثر بنانے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی غور کیا گیا۔