ایران میں مظاہرین کے قتل پر ٹرمپ کی سخت کارروائی کی دھمکی

2 ماہ قبل
ایران میں مظاہرین کے قتل پر ٹرمپ کی سخت کارروائی کی دھمکی

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران میں حکام نے احتجاج کرنے والے شہریوں کے خلاف جان لیوا طاقت استعمال کی تو امریکہ کی جانب سے نہایت سخت ردِعمل دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے کسی اقدام کی صورت میں ایران کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔جمعرات کو قدامت پسند صحافی ہیو ہیوٹ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بتایا کہ ایرانی حکام کو پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر مظاہروں کے دوران شہریوں کو قتل کیا گیا، جیسا کہ ماضی میں ہوتا رہا ہے، تو امریکہ خاموش نہیں رہے گا۔ یہ بیان خبر رساں ادارے کے ذریعے سامنے آیا۔دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری احتجاجی صورتحال پر صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں زور دیا کہ تشدد یا جبر سے گریز کیا جائے اور عوامی مطالبات کو سننے کے لیے بات چیت اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔جمعرات کے روز تہران کے شمال مغربی حصے میں واقع ایک اہم شاہراہ پر بڑی تعداد میں مظاہرین جمع ہوئے، جس کی جھلک سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر میں دیکھی جا سکتی ہے۔ احتجاج کرنے والے شہری معاشی بدحالی کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے، جبکہ کئی گاڑیوں کو مظاہرین کی حمایت میں ہارن بجاتے دیکھا گیا۔ایران سے باہر قائم فارسی زبان کے ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا ذرائع کے مطابق تبریز، مشہد اور دیگر شہروں میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے رپورٹ ہوئے ہیں۔ناروے میں قائم تنظیم ایران ہیومن رائٹس کے مطابق دسمبر کے آخر سے شروع ہونے والے احتجاجات کے دوران اب تک کم از کم 45 مظاہرین جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جن میں کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز ایک ہی دن میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جو اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے، جبکہ سینکڑوں افراد زخمی اور ہزاروں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سرکاری اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تعداد 21 بتائی گئی ہے، جن میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ادھر انٹرنیٹ نگرانی کرنے والی تنظیم نیٹ بلاکس نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں ملک گیر سطح پر انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے، جسے مظاہروں کے دوران ڈیجیٹل پابندیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔