ٹرمپ کا مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم کرنے سے صاف انکار

1 ماہ قبل
ٹرمپ کا مغربی کنارہ اسرائیل میں ضم کرنے سے صاف انکار

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)ایک امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کے کسی بھی اسرائیلی اقدام کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں استحکام اسرائیل کی سلامتی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور یہی پالیسی خطے میں امن کے فروغ کے امریکی مؤقف سے ہم آہنگ ہے۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے کا امن نہ صرف اسرائیلی سکیورٹی بلکہ مجموعی علاقائی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے، اور اسی مقصد کے تحت امریکہ کشیدگی کم کرنے کی حمایت کرتا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے حال ہی میں ایسے متنازع اقدامات کی منظوری دی ہے جن کے تحت مغربی کنارے میں آباد کاروں کے لیے زمین کی خریداری آسان بنا دی گئی ہے، جبکہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکام کے اختیارات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ان فیصلوں کے تحت اسرائیلی حکام کو بعض مذہبی مقامات کے انتظام، ماحولیاتی مسائل، پانی سے متعلق خلاف ورزیوں اور آثار قدیمہ کو پہنچنے والے نقصانات پر نگرانی اور کارروائی کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں، جبکہ وہ پرانے قوانین بھی ختم کر دیے گئے ہیں جو یہودیوں کو مغربی کنارے میں زمین خریدنے سے روکتے تھے۔نئی پالیسی کے مطابق الخلیل سمیت کئی فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کے لائسنس جاری کرنے کا اختیار فلسطینی بلدیاتی اداروں سے واپس لے کر اسرائیل کو دے دیا گیا ہے، جس کے بعد اب صرف اسرائیلی منظوری ہی کافی ہوگی۔واضح رہے کہ اسرائیل 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے، جسے مستقبل کی فلسطینی ریاست کا اہم حصہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم اسرائیلی دائیں بازو کے حلقے اسے گریٹر اسرائیل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مغربی کنارے میں اس وقت پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آباد کار غیر قانونی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ تیس لاکھ فلسطینی وہاں محدود اور منقسم علاقوں میں آباد ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ برسوں میں بستیوں کی تعمیر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔