جنیوا( مانیٹرنگ ڈیسک) سوئٹزرلینڈ کے مشہور اسکی ریزورٹ کرانس مونٹانا میں نئے سال کی تقریب کے دوران ایک نائٹ کلب میں دھماکے اور آگ لگنے کے نتیجے میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور سوئس حکومت و عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔واقعے کے وقت نائٹ کلب میں سالِ نو کی تقریب جاری تھی اور ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ عملہ جلتی ہوئی شیمپین بوتلیں اٹھا کر لے جا رہا تھا، جو نیچی لکڑی کی چھت سے ٹکرا رہی تھیں۔ تقریباً ڈیڑھ بجے رات اچانک آگ بھڑک اٹھی اور چند لمحوں میں تہہ خانہ لپیٹ میں آگیا۔ وہاں موجود افراد ایک ہی سیڑھی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے بدحواسی میں مبتلا ہو گئے۔حکام کے مطابق 115 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ دہشت گردی یا کسی مجرمانہ کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک حادثہ ہے۔اطالوی حکام کے مطابق 16 اطالوی شہری لاپتا ہیں جبکہ 15 زخمی ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ فرانس کے وزارت خارجہ کے مطابق کم از کم 8 فرانسیسی شہری بھی لاپتا ہیں۔ فرانس کے فٹبال کلب ایف سی میتز کا 19 سالہ کھلاڑی تاہیریس ڈوس سانتوس شدید جھلس گیا ہے اور جرمنی کے ہسپتال میں اس کا علاج جاری ہے۔مرنے والے افراد کی شناخت مشکل ہے کیونکہ کئی لاشیں شدید جھلس گئی ہیں۔ شناخت کے لیے ڈی این اے اور دانتوں کے ریکارڈ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ شدید زخمیوں کو قریبی ملکوں کے ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمَلین نے واقعے کو ملک کی بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ زیادہ تر متاثرین نئے سال کا جشن منانے آئے نوجوان تھے۔ برطانوی بادشاہ چارلس نے بھی اسے دل دہلا دینے والا واقعہ قرار دیا۔پاکستانی وزیراعظم نے اس افسوسناک سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان سوئس عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں نائٹ کلب دھماکے میںہلاکتوں کی تعداد47ہو گی
3 ماہ قبل