صومالیہ کا اسرائیل-صومالی لینڈ تعلقات پر انتباہ

2 ماہ قبل
صومالیہ کا اسرائیل-صومالی لینڈ تعلقات پر انتباہ

موغادیشو( مانیٹرنگ ڈیسک)صومالی صدر کے مشیر برائے مفاہمت ڈاکٹر عبدالرحمن بادیو نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور صومالی لینڈ کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت اگر براہ راست عسکری یا انٹیلی جنس تعاون میں بدل گئی تو یہ صومالیہ کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر بادیو نے کہا کہ ایسی صورت میں صومالیہ کو ایک حقیقی چیلنج کا سامنا ہوگا جو روایتی سفارتی ردعمل سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوال یہ ہے کہ آیا صومالیہ محض سیاسی اور قانونی اقدامات پر اکتفا کرے گا یا قومی سلامتی اور علاقائی وحدت کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گا۔ڈاکٹر بادیو نے مزید کہا کہ شمالی ساحلوں پر کسی بھی قسم کے عسکری انتظامات یا نگرانی کے اڈے موغادیشو کے لیے براہِ راست اشتعال انگیزی تصور کیے جائیں گے۔ اس طرح کے اقدامات علاقائی کشیدگی کو بڑھا سکتے ہیں، جو اس خطے میں پہلے ہی اثر و رسوخ کی دوڑ میں شامل قوتوں کی موجودگی کے باعث حساس ہے، جہاں بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں مقابلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔