استنبول( ترکیہ خبر)ترکی کے اسکرین رائٹر اور ہدایتکار عمر یلدرم نے کہا ہے کہ ان کی ایوارڈ یافتہ شارٹ فلم کی تیاری اور تحقیق کے عمل نے انہیں سماعت سے محروم افراد کی کمیونٹی کو گہرائی سے سمجھنے کا موقع دیا، جو اس منصوبے کے دوران ان کے لیے مسلسل تحریک کا ذریعہ رہا۔یہ ترکی کی مختصر فلم چار ایسے بہرے نوجوانوں کی کہانی پر مبنی ہے جنہیں ایک تجرباتی پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے انہیں پہلی بار سننے کی صلاحیت ملنے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ یہ نوجوان برسوں تک اپنے پیاروں کی آوازیں ریکارڈ کر کے اس لمحے کی تیاری کرتے ہیں، تاہم بعد میں انہیں اس منصوبے سے نکال دیا جاتا ہے، جس کے بعد وہ جذباتی کشمکش، شناخت کے بحران اور تعلق کے احساس جیسے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔عمر یلدرم نے انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سماعت سے محروم افراد سے ملاقات کی اور ان سے بات چیت کرنے کی کوشش کی، جس دوران انہیں بہت سی نئی باتوں کا علم ہوا جو پہلے معلوم نہیں تھیں۔ ان کے مطابق یہی تجربہ فلم سازی کے دوران ان کے لیے مسلسل حوصلہ افزائی کا باعث بنا۔انہوں نے استنبول انٹرنیشنل نیوز سینٹر میں انادولو اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقدہ ورکشاپ “سینما میں رکاوٹوں کا خاتمہ” میں شرکت کی، جہاں فلم کے پس پردہ مناظر بھی دکھائے گئے۔تقریب میں انادولو کے فارن اینڈ اکنامی نیوز پبلشنگ منیجر باریشکان اونال نے بھی خطاب کیا اور ادارے کے منصوبے “Hands Speak” کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا، جس کا مقصد سماعت سے محروم افراد کو فوری اور قابل رسائی خبریں فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ معذور افراد پر مبنی فلمیں بہت اہم ہیں اور اس فلم میں بہرے کرداروں کی قدرتی عکاسی کو سراہا جانا چاہیے۔ان کے مطابق سب سے قابلِ تعریف بات یہ تھی کہ فلم میں اگرچہ مرکزی کردار سماعت سے محروم افراد تھے، مگر اسے کسی “معذوری” کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ یہ کہانی کا ایک فطری حصہ محسوس ہوا۔
“خاموش منصوبہ” نے سماعت سے محروم افراد کی دنیا کو بہتر سمجھنے میں مدد دی: ہدایتکار عمر یلدرم
واپس خبروں پر
Category:
ترکیہ