واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق جاری کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ تنازع آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے اور اس کے لیے ایران کو کسی نئے معاہدے کی ضرورت نہیں ہوگی۔دوسری جانب کویت نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی حملے کے نتیجے میں اس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ایندھن ذخیرہ کرنے والے ٹینکوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ادھر اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اصفہان اور فرخشہر میں دوا ساز اداروں اور فولاد سازی کے کارخانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ انہیں امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات پر اعتماد نہیں ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے پیغامات ضرور موصول ہوئے ہیں، تاہم فی الحال کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہو رہی۔اسی دوران لبنان کی صورتحال بھی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں مکانات مسمار کیے جائیں گے اور بڑی تعداد میں بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں کو واپسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہے بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ تھمنے کا امکان، خطے میں کشیدگی بدستور برقرار
4 دن قبل