باکو( ترکیہ خبر) مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے باعث توانائی کی ترسیل کے اہم راستے آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے بعد جنوبی کوریا نے خام تیل کی فراہمی کے لیے متبادل راستہ اختیار کرنے کی منظوری دے دی ہے۔حکومتی اعلامیے کے مطابق صدر لی جے میونگ کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں وزیر صنعت کم جنگ کوان نے اعلان کیا کہ مخصوص حفاظتی شرائط پوری کرنے والے آئل ٹینکرز کو بحیرہ احمر کے راستے تیل لانے کی اجازت دی جائے گی تاکہ ملکی توانائی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث جہاز رانی محدود ہونے سے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد بحیرہ احمر ایک اہم متبادل راستے کے طور پر سامنے آیا ہے۔منصوبے کے تحت خام تیل سعودی عرب کے مشرقی ذخائر سے پائپ لائن کے ذریعے مغربی بندرگاہ ینبع منتقل کیا جائے گا، جہاں سے اسے بحری جہازوں کے ذریعے جنوبی کوریا پہنچایا جائے گا۔ ینبع بندرگاہ کی یومیہ برآمدی صلاحیت تقریباً پچاس لاکھ بیرل بتائی گئی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ اقدام نہ صرف توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا بلکہ خطے میں جاری کشیدگی کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش بھی ہے۔
آبنائے ہرمز بند، جنوبی کوریا نے تیل کیلئے متبادل راستہ اختیار کر لیا
22 گھنٹے قبل