ترکیہ خبر

جنوبی قفقاز میں امن کی نئی پیش رفت، ترکیہ-آرمینیا تعلقات کی مکمل بحالی کی امید

جنوبی قفقاز میں امن کی نئی پیش رفت، ترکیہ-آرمینیا تعلقات کی مکمل بحالی کی امید

لندن( ترکیہ خبر) جنوبی قفقاز کے خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی کو ایک “نئے دور” کے آغاز سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جہاں آرمینیا کے حکام اور یورپی یونین کے ثالث ترکیہ کے ساتھ تعلقات کی مکمل بحالی اور آذربائیجان کے ساتھ پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششیں تیز کر رہے ہیں۔یورپی یونین کی خصوصی نمائندہ برائے جنوبی قفقاز مگدالینا گرونو نے خطے کی موجودہ صورتحال کو “اسٹریٹجک لمحہ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطہ اب ایسے استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جو انتہائی خوش آئند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ باکو اور یریوان کی قیادت نے ایک نئے باب کے آغاز کے لیے جرات مندانہ اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور آرمینیا کے درمیان سرحد کھلنے سے آرمینیا کو علاقائی تجارت میں مزید انضمام اور ٹرانزٹ و رابطہ کاری کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔یورپی نمائندے کے مطابق یورپی یونین خطے میں امن عمل، ادارہ جاتی استحکام اور ترکیہ و آرمینیا کے درمیان مکمل سفارتی بحالی کے لیے پر امید ہے۔آرمینیا اور ترکیہ کے درمیان تعلقات کی بہتری کو جنوبی قفقاز میں وسیع تر امن عمل سے جوڑا جا رہا ہے، جبکہ انقرہ ہمیشہ سے آذربائیجان کے ساتھ مشاورت کی پالیسی پر عمل کرتا آیا ہے۔آرمینیائی وزیر اعظم نکول پشینیان نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ 2028 میں یورپی سیاسی کمیونٹی کے اجلاس کے لیے آذربائیجان کا دورہ کر سکتے ہیں، جسے خطے میں غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب آرمینیا کے نائب وزیر خارجہ نے ترکیہ اور آرمینیا کے درمیان حالیہ عرصے میں تیز ہوتی سفارتی گفتگو کو “تاریخی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف شعبوں میں کثیرالجہتی مذاکرات جاری ہیں جن میں ثقافتی ورثہ اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر جیسے امور شامل ہیں۔