مانچسٹر(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ کے شہر مانچسٹر کی ایک مسجد میں نماز تراویح کے دوران چاقو اور کلہاڑی کے ساتھ داخل ہونے والے 40 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پر ہتھیار اور منشیات رکھنے کا شبہ ہے، تاہم اس واقعے کو دہشت گردی قرار نہیں دیا گیا۔ ملزم کے ساتھی کی تلاش جاری ہے۔افضل خان نے واقعے کو اسلاموفوبیا قرار دیا ہے۔ مسجد انتظامیہ کے مطابق سفید فام شخص جیکٹ پہنے اور بیگ اٹھائے مسجد میں داخل ہوا، جبکہ اس کے ساتھ ایک سیاہ فام شخص بھی موجود تھا۔مسجد کے رضاکاروں نے بیگ سے کلہاڑی دیکھ کر اسے علیحدہ کمرے میں منتقل کیا، جہاں مزید ہتھیار جیسے چاقو اور ہتھوڑا برآمد ہوئے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ نہیں سمجھ پا رہے کہ پولیس اس واقعے کو دہشت گردی کیوں نہیں کہہ رہی۔برطانوی وزیر کیئر سٹارمر نے ایکس پر جاری پیغام میں کہا کہ واقعے سے سن کر انہیں تشویش ہوئی، اور رمضان المبارک کے دوران اس طرح کے واقعات مسلم کمیونٹی کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں۔