جنوبی لبنان میں یونيفیل کے مقام پر اسرائیلی گولہ باری

2 ماہ قبل
جنوبی لبنان میں یونيفیل کے مقام پر اسرائیلی گولہ باری

نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی ہاون کے دو گولے جنوبی لبنان کے قصبے یارون کے جنوب مغرب میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس یونيفیل کے ایک مقام کے قریب آ گرے، جس کے باعث ہیلی کاپٹر لینڈنگ پیڈ اور مرکزی داخلی دروازے کو نقصان پہنچا۔یونيفیل نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اس کی ذمہ داریاں یاد دلائیں اور مطالبہ کیا کہ امن دستوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور ایسے تمام حملے بند کیے جائیں جو اہلکاروں کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔منگل کی شام جاری بیان میں یونيفیل نے بتایا کہ گرنے والے دونوں ہاون گولے ممکنہ طور پر روشنی پیدا کرنے والے تھے، جو اقوام متحدہ کے مقام پر واقع ہیلی پیڈ اور مین گیٹ کے قریب آ کر گرے۔ واقعے کے فوراً بعد امن دستوں کے اہلکار حفاظتی اقدامات کے تحت پناہ گاہوں میں منتقل ہو گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔یونيفیل کے مطابق واقعے کے بعد اسرائیلی فوج کو فوری طور پر جنگ بندی کی درخواست بھی ارسال کی گئی۔ بیان میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا گیا کہ امن فوج اور اس کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایسے اقدامات کو روکا جانا چاہیے۔یونيفیل نے واضح کیا کہ امن دستوں کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی بھی عمل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے، جو خطے میں استحکام کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ عرصے کے دوران جنوبی لبنان میں متعدد مواقع پر اسرائیلی فورسز کی جانب سے یونيفیل کے قریب فائرنگ اور فوجی سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں، جس پر بارہا تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔یاد رہے کہ یونيفیل کا قیام 19 مارچ 1978 کو سلامتی کونسل کی قراردادوں 425 اور 426 کے تحت عمل میں آیا تھا، جس کا مقصد لبنان سے اسرائیلی انخلا کی نگرانی، امن کی بحالی اور لبنانی حکومت کو جنوبی علاقوں میں عمل داری قائم کرنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ 2006 کی جنگ کے بعد قرارداد 1701 کے تحت یونيفیل کے اختیارات اور ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کیا گیا۔گزشتہ سال اگست میں یونيفیل کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے اسے 31 دسمبر 2026 تک بڑھا دیا گیا، جس کے بعد مرحلہ وار نفری میں کمی اور منظم و محفوظ انخلا کا عمل شروع کیا جانا ہے۔