تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے صرف جوہری معاملات تک محدود رہنے پر اسرائیل میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے زور دیا ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات میں نہ صرف ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا شامل ہونا چاہیے بلکہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندی اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کے خاتمے کو بھی ایجنڈے کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔اتوار کے روز جاری بیان میں نیتن یاہو کے دفتر کا کہنا تھا کہ ایرانی نظام ماضی میں بارہا یہ ثابت کر چکا ہے کہ اس کے وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو اسرائیل کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران جس پیمانے پر میزائل تیار کرنا چاہتا ہے وہ نہ صرف اسرائیل بلکہ یورپی ممالک کے لیے بھی خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کے معاملے میں حماس کو غیر مسلح کرنے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اس کے برعکس ایرانی چیف آف اسٹاف عبد الرحیم موسوی نے کہا ہے کہ خطے میں کسی بھی ممکنہ جنگ کے نتائج کی ذمہ داری امریکہ اور اسرائیل پر عائد ہو گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مکمل دفاعی تیاری کے باوجود ایران خطے میں جنگ شروع کرنے کا خواہاں نہیں۔یہ بیانات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات صرف جوہری معاملات تک محدود رہے اور بیلسٹک میزائلوں کا موضوع آئندہ مذاکراتی دور میں زیر بحث نہیں آئے گا۔اسرائیلی موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بدھ کے روز واشنگٹن کے متوقع دورے پر جا رہے ہیں، جہاں وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ مذاکراتی ایجنڈے میں بیلسٹک میزائلوں اور ایران کے زیر اثر مسلح گروہوں کا معاملہ بھی شامل کیا جائے۔یاد رہے کہ امریکہ اور ایران نے مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کو مثبت قرار دیا تھا، تاہم عباس عراقچی کے مطابق کسی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید غور و خوض ضروری ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار فوجی آپشن کا عندیہ دے چکے ہیں۔
ایران سے مذاکرات، میزائل اور مسلح گروہ بھی ایجنڈے میں لانے کا اسرائیلی مطالبہ
1 ماہ قبل