جنیوا( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایک نیا دور بالواسطہ مذاکرات جاری ہے، جس کا مقصد دیرینہ ایٹمی تنازع کو حل کرنا اور ایران پر ممکنہ امریکی حملوں کے خطرے کو کم کرنا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے اعلیٰ سفارت کاروں کے ہمراہ مذاکرات کے لیے جنیوا پہنچ چکے ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مذاکرات کے حوالے سے پرامید لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ یہ گفتگو بالآخر اس نہ جنگ نہ امن والی صورتحال سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ عراقچی نے بھی مذاکرات کو تاریخی موقع قرار دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے خبردار کیا کہ ایران کو اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بات چیت کرنی ہوگی۔ یہ انتباہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کے ایک دن بعد سامنے آیا، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران ایسے میزائل تیار کر رہا ہے جو امریکا کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام پر دہائیوں سے جاری تعطل ختم کرنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے گئے ہیں۔ امریکا، دیگر مغربی ممالک اور اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران اس پروگرام کے ذریعے ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ تہران اس تردید کرتا ہے۔امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کی ثالثی میں ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے کانگریس میں سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ ترجیح سفارت کاری کے ذریعے حل نکالنا ہے، لیکن ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی زور دیا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار رکھے تو فوجی آپشن آخری حل ہوگا۔