واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)ایرانی وزارت خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان ایٹمی مذاکرات کے تیسرے دور کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مرحلہ دونوں ممالک کے تعلقات میں آئندہ پیش رفت کے تعین کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا میں مذاکراتی نشست سے قبل اپنے عمانی ہم منصب بدر بن حمد البوسعیدی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات جنیوا میں ہوئی جس میں مجوزہ ایٹمی معاہدے کی شقوں اور بات چیت کے آخری نکات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق فریقین نے آئندہ لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی۔دوسری جانب امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی نیا معاہدہ غیر معینہ مدت تک مؤثر رہے۔ ان کے مطابق موجودہ مذاکرات میں دو بنیادی نکات ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت اور پہلے سے موجود افزودہ مواد کے ذخائر کا مستقبل ہیں۔ایرانی وفد کی جنیوا آمد کے بعد صدر مسعود پزیشکیان نے مثبت بیانات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات دیکھ رہا ہے اور قیادت کی رہنمائی میں کشیدگی کے طویل مرحلے سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تہران ایک ایسے حل کا خواہاں ہے جو خطے میں استحکام کو فروغ دے۔سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ جنیوا کا یہ دور اہم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ مذاکرات کے نتائج سے متعلق پیغام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک پہنچایا جائے گا، جس کے بعد آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔ امریکہ پہلے ہی ایران پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کر چکا ہے اور مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو مضبوط بنایا ہے۔واشنگٹن کی جانب سے عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر ایٹمی پروگرام سے متعلق طویل المدتی سمجھوتہ طے نہ پایا تو مزید سخت اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے حالیہ خطاب میں بھی ایران سے متعلق اپنی پالیسی کا خلاصہ پیش کیا اور کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے واضح اور پائیدار معاہدہ ضروری ہے۔ایران مسلسل یہ مؤقف دہرا رہا ہے کہ اس کی ایٹمی سرگرمیاں توانائی کے پُرامن مقاصد کے لیے ہیں۔ تاہم سفارتی ذرائع کے مطابق پابندیوں کے خاتمے کے طریقہ کار اور وقت کے تعین پر اب بھی دونوں ممالک کے درمیان نمایاں اختلافات موجود ہیں۔ مذاکرات کا یہ مرحلہ اسی تعطل کو ختم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔