ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کردیا،مذاکرات کے حامی ہیں: ایرانی قیادت

1 ماہ قبل
ایران نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کردیا،مذاکرات کے حامی ہیں: ایرانی قیادت

 تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسقط میں ہونے والے امریکی۔ایرانی مذاکرات کو مثبت قرار دیے جانے کے بعد ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی قوم احترام کا جواب احترام سے دیتی ہے اور طاقت کی زبان میں دی جانے والی دھمکیوں کو قبول نہیں کرتی۔ تہران میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر بزشکیان نے کہا کہ جوہری معاملے پر امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو آگے کی جانب ایک قدم سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنا ہمیشہ سے ایران کی پالیسی کا حصہ رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جوہری امور کے حوالے سے ایران کا مؤقف عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے میں درج اس کے تسلیم شدہ حقوق پر مبنی ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یورینیم کی افزودگی کے معاملے پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایران سے افزودگی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران افزودگی پر اصرار کرتا ہے کیونکہ کوئی بھی ملک اسے یہ حکم نہیں دے سکتا کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔عباس عراقچی نے کہا کہ ماضی میں ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہ ہو سکا، اسی لیے اب مذاکرات کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ایران افزودگی کی سطح سے متعلق خدشات دور کرنے کے لیے بات چیت پر آمادہ ہے۔انہوں نے 2005 کے مذاکرات اور موجودہ مذاکرات کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اب خطے کے ممالک کی براہ راست موجودگی ایک نمایاں فرق ہے، جبکہ امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کو انہوں نے مثبت نتائج کی راہ میں رکاوٹ قرار دینے سے انکار کیا۔