واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی تقریباً چار ہفتوں یا اس سے کم عرصے میں مکمل کی جا سکتی ہے۔ ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ اس مہم کا اندازہ آغاز ہی سے چار ہفتے لگایا گیا تھا اور تمام پیچیدگیوں کے باوجود یہ مدت زیادہ نہیں بڑھے گی۔گزشتہ ماہ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی شروع کر دی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنا اور اس کی بحری قوت کو کمزور بنانا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی تصدیق کی کہ امریکہ اور اسرائیل اس سلسلے میں مشترکہ اقدامات کر رہے ہیں، جنہیں انہوں نے ایرانی خطرے کے تناظر میں ناگزیر قرار دیا۔ادھر ایران کی پاسداران انقلاب نے ردعمل میں بڑے جوابی اقدام کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ بعض عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ خلیجی خطے میں قائم امریکی تنصیبات کو ہدف بنانے کی دھمکی دی گئی ہے۔اسی دوران صدر ٹرمپ نے ایک ویڈیو پیغام میں ایرانی عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے سیاسی مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ آزادی کے خواہاں افراد ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کریں اور اپنے ملک کے لیے کھڑے ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ایرانی عوام کے ساتھ ہے۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔