تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران میں حکام کی جانب سے پورے ملک میں انٹرنیٹ کی بندش دو ہفتوں سے زیادہ جاری ہے۔انسانی حقوق کے کارکنان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بندش کا مقصد حکومت مخالف مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حقیقی دائرہ اور ہلاکتوں کو چھپانا ہے۔ نگراں ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق بعض صارفین کبھی کبھار اور محدود مدت کے لیے حکومت کی منظور شدہ سائٹس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جبکہ زیادہ تر ملک گیر انٹرنیٹ بند ہی رہا۔ایرانی حکام نے بدھ کو پہلی بار سرکاری تعداد کے مطابق بتایا کہ مظاہروں کے دوران 3,117 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سکیورٹی فورسز کے ارکان اور بے گناہ راہگیر شامل ہیں۔
ایران میں دو ہفتوں سے جاری انٹرنیٹ بندش اور 3117 ہلاکتیں
2 ماہ قبل