باکو( ترکیہ خبر) بھارت میں نسلی اقلیتوں کے خلاف حکومت کی پالیسیوں کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس باکو میں شروع ہو گئی، جسے باو انیشیٹیو گروپ کی جانب سے منظم کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام، جس کا عنوان ہے "بھارت میں سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نسل پرستی اور تشدد: زمینی حقائق”، پہلی بار آذربائیجان میں منعقد کیا جا رہا ہے۔کانفرنس میں اعلیٰ سطح کے شرکاء شامل ہیں جن میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتیں رامیش سنگھ ارورا، مختلف ممالک کے حکام، کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ سے سکھ برادری کے نمایاں نمائندے، تحقیقی اداروں کے سربراہان، انسانی حقوق کے ماہرین اور بھارت کی امتیازی پالیسیوں سے متاثرہ افراد شامل ہیں۔مباحثے میں بھارت میں سکھوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم نسل پرستی، دباؤ اور تشدد کے موضوعات زیر غور آئیں گے، جن میں اقوام متحدہ کے عالمی معاہدہ برائے شہری اور سیاسی حقوق، نسل پرستی کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن، اور اذیت کے خلاف کنونشن کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔ کانفرنس میں بین الاقوامی تنظیموں کے کردار پر بھی بات کی جائے گی، بشمول غیر قانونی قتل کی تحقیقات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دستاویزی شکل دینے کے اقدامات، جیسا کہ اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹرز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔تقریب کا آغاز سکھ برادری کے خلاف دباؤ اور ہلاکتوں کی تصاویر کی نمائش سے ہوا۔ منتظمین کے مطابق 1980 سے 1990 کے دوران پنجاب میں ہزاروں سکھ قتل، اغوا یا جھوٹے الزامات پر سزا دی گئی۔ موجودہ دور میں سکھ حقوق کے لیے سرگرم کارکنان کو "علیحدگی پسند” یا "جاسوسی” کے الزامات میں گرفتار کیا جا رہا ہے، جبکہ پنجاب میں پولیس کی چھاپے بازی میں شدت آ گئی ہے۔ بیرون ملک بھی سکھ کارکنان پر حملے رپورٹ ہوئے، جن میں بعض کے لیے کینیڈا اور امریکہ کی حکام نے بھارتی انٹیلیجنس سروسز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔شرکاء نے مقامی اور بین الاقوامی این جی اوز کے ساتھ ساتھ علمی حلقوں کے اہم کردار پر زور دیا، جو رپورٹیں، قانونی آراء اور سفارشات تیار کر کے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عالمی پالیسی اور فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
باکو میں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نسل پرستی اور تشدد پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز
2 ماہ قبل