حلب میں شامی فوج اور قسد کے درمیان شدید جھڑپیں

3 ماہ قبل
حلب میں شامی فوج اور قسد کے درمیان شدید جھڑپیں
حلب میں شامی فوج اور قسد کے درمیان شدید جھڑپیں


شام( ترک خبر)شام کے شہر حلب میں شیخ مقصود اور الاشرفیہ محلوں کے مضافاتی علاقوں میں شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں، جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔عرب میڈیا کے مطابق قسد کی جانب سے حلب کے جمیلیہ محلے پر کی گئی گولہ باری میں کم از کم دو شہری جاں بحق ہو گئے، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد خاندان محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے لگے۔شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کا کہنا ہے کہ قسد کی فورسز نے الاشرفیہ محلے میں اپنے ٹھکانوں سے فائرنگ کرتے ہوئے شیحان اور لیرمون چوک کے قریب داخلی سلامتی کی چوکیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں چار شہری اور سول ڈیفنس کے رضاکار زخمی ہوئے۔جھڑپوں کے باعث درجنوں خاندانوں کو اپنے گھر چھوڑنا پڑا، جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر غازی عنتابحلب مرکزی شاہراہ کو لیرمون اور شیحان چوک کے اطراف سے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔شامی سرکاری ٹی وی کے مطابق قسد کے سنائپرز نے شیحان چوک کے قریب داخلی سلامتی کے ایک ناکے پر فائرنگ کی، جس سے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب قسد نے دعوی کیا ہے کہ شامی فوج نے شیخ مقصود اور الاشرفیہ محلوں پر بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کا جواب دیا جا رہا ہے۔قسد کے میڈیا سینٹر کا کہنا ہے کہ حلب میں ایک چوکی پر ہونے والے حملے میں ان کے دو اہلکار زخمی ہوئے، جس کی ذمہ داری وزارتِ دفاع سے وابستہ گروہوں پر عائد کی گئی ہے، جبکہ جھڑپوں کی مکمل ذمہ داری شامی حکومت پر ڈالی گئی ہے۔ادھر شامی وزارتِ دفاع نے قسد کے ان دعوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوج نے قسد کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ قسد کی جانب سے الاشرفیہ کے اطراف میں اچانک حملے کیے گئے، جن پر سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔سانا کے مطابق تازہ جھڑپوں کے بعد لیرمون محلے کے اطراف سے مزید خاندانوں کی نقل مکانی جاری ہے، جبکہ علاقے میں سکیورٹی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔