امیگریشن حکام نے ایک ایسے شخص کو ہلاک کیا جو "قتلِ عام" کا ارادہ رکھتا تھا:امریکی وزیر داخلہ

2 ماہ قبل
امیگریشن حکام نے ایک ایسے شخص کو ہلاک کیا جو "قتلِ عام" کا ارادہ رکھتا تھا:امریکی وزیر داخلہ

واشنگٹن/منی سوٹا( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی وزیر داخلہ کرسٹی نوئم کو منیسوٹا میں ایک مظاہرے کے دوران مسلح شخص کی ہلاکت کے حوالے سے گمراہ کن معلومات پھیلانے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا تھا کہ امیگریشن حکام نے ایک ایسے شخص کو ہلاک کیا جو "قتلِ عام" کا ارادہ رکھتا تھا، تاہم بعد میں منظر عام پر آنے والی وڈیوز نے اس سرکاری موقف کی تردید کر دی۔اس واقعے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اندرونی اختلافات اور افراتفری کو واضح کر دیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے حکام اس غلط بیانی کے ذمہ دار کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے محکمے کو قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض ذرائع کے مطابق صدر کے سینئر مشیر اسٹیفن ملر نے حقائق کی جانچ کیے بغیر "قتلِ عام" کی کہانی کو فروغ دیا۔رپورٹس کے مطابق اسٹیفن ملر کا اثر و رسوخ وزیر داخلہ کرسٹی نوئم پر بھی حاوی ہے، اور انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ صدر اور اسٹیفن ملر کی ہدایات کے مطابق عمل کر رہی تھیں۔واقعے کے فوری بعد متعلقہ اہلکار خاموشی اختیار کر گئے اور قانونی مشیروں سے رہنمائی لی گئی، جس سے معلومات کی کمی پیدا ہوئی۔ بعد میں عوام کی بنائی ہوئی وڈیوز منظر عام پر آئیں، جن میں واضح ہوا کہ مقتول نے ہتھیار نکالنے کی کوشش نہیں کی تھی، جس پر صدر ٹرمپ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔صورتحال پر قابو پانے کے لیے صدر ٹرمپ نے پیر کو "بارڈر" امور کے ذمہ دار ٹوم ہومن کو منیسوٹا بھیجا، جو اسٹیفن ملر کے متشدد طریقوں کے نقاد سمجھے جاتے ہیں۔ اس دوران کرسٹی نوئم نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے طویل ملاقات کی اور اپنی وفاداری کا یقین دلایا، تاہم نجی محفلوں میں انہوں نے شکایت کی کہ بحران میں انہیں تنہا چھوڑ دیا گیا۔وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اسٹیفن ملر اور کرسٹی نوئم کے عہدے فی الحال محفوظ ہیں اور انتظامیہ اس معاملے پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔