افغانستان میں بھوک اور غربت نے ہولناک صورت اختیار کر لی

3 ماہ قبل
افغانستان میں بھوک اور غربت نے ہولناک صورت اختیار کر لی

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغان طالبان حکومت کے تحت افغانستان میں غربت، بھوک اور افلاس نے تشویشناک صورت اختیار کر لی ہے، جہاں عام شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) کی تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں تقریبا ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت، بھوک اور افلاس کے عالم میں موسمِ سرما گزارنے پر مجبور ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے، جو گزشتہ دہائیوں میں بلند ترین سطح ہے۔عالمی اداروں کے مطابق شدید معاشی بحران نے افغان عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے، روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور آمدنی کے ذرائع تقریبا ختم ہو چکے ہیں، جس کے باعث لاکھوں خاندان بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں۔یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق دو سال سے کم عمر کے تقریبا 90 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جو ایک سنگین انسانی المیہ ہے۔ عالمی ادارے افغان طالبان رجیم کی نااہلی، بے حسی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کو اس بحران کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق طالبان حکمران بدعنوانی اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ رقوم پر عیاشیوں میں مصروف ہیں، جبکہ افغان عوام خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔